امریکہ میں اب ہمیں خدا کی ضرورت نہیں رہی

تحریر : ظفر حجازی
اسلام آباد'نام میں اس کا بھول گیا ہوں۔ انیس سال قبل میری اس امریکن بوڑھے شخص سے طویل گفتگو واشنگٹن میں فرانس کے سفارتخانے کے قریب بس سٹاپ پہ ہوی تھی۔ میرے ساتھ این آی ٹی کے سابق چئیرمین جناب شاہد غفار بھی تھے۔ اس بوڑھے شخص نے مجھے سوالیہ انداز میں ہیلو پاکستان ؟ کہا جس کا جواب میں نے اثبات میں دیا۔ اس نے گرمجوشی سے مجھ سے مصافحہ کیا اور پاکستان کے متعلق اپنی کچھ معلومات کا اظہار کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی پاکستان کی واشنگٹن میں سابق خاتون سفیر صبیحہ امام سے بڑی دوستی تھی۔ یوں ہمارے درمیان گفتگو کا آغاز ہوا جو کافی دیر جاری رھی۔ اس دوران کئی بسیں آئیں اور گزر گئیں۔ اس بوڑھے امریکن کو اپنے ملک پہ بہت فخر تھا۔ اس نے بتایا کہ اس عمر میں اس کی ریاست اس کی مکمل کفالت کرتی ہے۔ اس کو مناسب پنشن ملتی ہے، اس کو طبی ضروریات کے متعلق کوی پریشانی نہیں اور اولڈ ایج کے حوالے سے ریاست اپنے شہریوں کو بے پناہ مراعات دیتی ہے۔ اس نے کہا کہ اب ھمیں امریکہ میں خدا کی ضرورت نہیں رھی چونکہ ریاست ھماری وہ تمام حاجتیں پوری کرتی ہے جس کے لیے بے بس انسان نے خدا کا تصور تخلیق کر رکھا ہے ۔ ظاہر ھے وہ دہریہ تھا اور خدا کے وجود کا قائل نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ خدا کا وجود کا تصور دراصل انسان کی مصائب کے سامنے بے بسی سے محض وقتی طور پہ جنم لیتا ہے۔ مثلاجب انسان بیمار ہوتا ہے اور اسے طبی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں یا بھوکا ہوتا ہے اور اسے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تو انسان بے بسی میں ان دیکھی قوتوں کے مدد کا طلبگار ہوجاتا ہے جسے خدا کہتے ہیں۔ ترقی یافتہ ریاستیں چونکہ انسان کی روزمرہ کی تمام ضروریات پورا کرتی ہیں اس لیے ترقی یافتہ ریاست خدا کے وجود کا نعم البدل ہے۔ اس نے بڑے اعتماد سے کہا اب ھمیں امریکہ میں خدا کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ ضرورت اب تمہارے جیسے غریب ملک کے لوگوں کی ھے۔ ظاہر ہے میرے نزدیک اس کی یہ باتیں واھیات تھیں مگر میں نے اس سے کوی بحث نہیں کی تھی اور اس کے اپنی ریاست پہ اعتماد سے محظوظ ہوتا رھا تھا۔ آج مجھے وہ امریکی شدت سے یاد آیا ہے۔ اگر وہ زندہ ہوا تو اسے کرونا جیسی حقیر مخلوق کے سامنے اپنی عظیم ریاست کی بے بسی کے باعث خدا ضرور یاد آ رھا ہوگا۔ چاھے وقتی طور پہ ھی سہی۔

Last modified onFriday, 20 March 2020 12:00
More in this category: « ڈاکٹر صغرا صدف

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.